Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مقتل میں اُترنا ہی پڑے گا (نظم ۔ پروفیسر انور جمیل)

مقتل میں اُترنا ہی پڑے گا

مقتل میں میری جان اُترنا ہی پڑے گا

ظالم کا مداوا بھی تو کرنا ہی پڑے گا

ڈھائی ہے ستمگر نے قیامت ، تو ہمیں بھی

اس خون کے دریان سے گزرنا ہی پڑے گا

٭…٭…٭

تغافل اور تساہل کی انتہا کی ہے

نماز عشق تھی لازم مگر قضا کی ہے

جہاں میں خوار اور بے بس ہوئے تو تب یہ کھلا

جہاد چھوڑ کے ہم نے بڑی خطا کی ہے

٭…٭…٭

عدو جو فتنہ باز ہے ، وہ سرکش وشریر ہے

نبی کے عاشقوں پہ اس کے ظلم کی اخیر ہے

خدا کا حکم ہے یہی ، چلو محاذِ جنگ پر

ستمگروں سے مومنو! جہاد ناگزیر ہے

٭…٭…٭

منظر رہے نگاہ میں وہ سومنات کا

فتح و ظفر ہے کھیل تیرے بائیں ہاتھ کا

اُٹھ چھین لے کشمیر ، براہمن کے ہاتھ سے

اب مسئلہ ہے یہ تیری موت و حیات کا

٭…٭…٭

(پروفیسر انور جمیل)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor