Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اسلام دینِ فطرت

 

اسلام دینِ فطرت

Madinah Madinah

اسلام دین فطرت ہے، اس کے اساسی تصورات عدل واعتدال پر مبنی ہیں یہ وہ عظیم نعمت ہے جو انسانیت کو ایک عظیم تحفہ کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہو اہے۔ یہ انسانی حیات کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے جنہیں اگر دیگر مذاہب میں دیکھاپرکھاجائے تو انسانی عقل فضول افکار ونظریات کی بھول بھلیوں میں گم ہوجاتی ہے اور یہ واحد دین ہے جو دیگر ادیان باطلہ اور دوسرے افکار سے کلی طور منفرد بھی ہے اور مختلف بھی، ایک ایسالازوال نظام جو ایک صورت بندے کو اپنے خالق سے ملاتا اور دوسری صورت اسی مخلوق کا رشتہ بندگان خدا سے بھی استوار کرتا ہے۔ جس طرح عمل کے بغیر علم کا ہونا اور انسانیت کے بغیر انسانوں کا ہونا، ایک ادھورا عمل ہے اسی طرح حسن اخلاق، خدمت خلق اور صلہ رحمی کے بغیر مسلمان ومومن بھی ادھورا ہے۔ مغربی افکار اور متشرقین کا اس بات کو بہت اُچھالنا ایک پروپیگنڈہ ہی ہے کہ قرآنی تعلیمات اللہ اور بندے کے درمیان رشتہ کوزیادہ ترجیح دیتی ہیں،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے جہاں زندگی کے مختلف گوشوں اور مرحلوں کو سنوارنے کا انتظام مہیا کیا ہے وہیںاس نے خدمت خلق پربھی خاص توجہ دی ہے۔ اسلام نے اس معاملے میں بھی ارفع واعلیٰ تصور پیش کیا ہے۔

 آپ ﷺ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:’’ جو شخص کسی مومن سے دنیوی تکالیف میں سے کوئی ایک تکلیف دور کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی تکلیف میں سے اس کی تکلیف دور کردے گا۔ جو شخص کسی تنگدست سے نرمی کا معاملہ کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس سے نرم معاملہ کرے گا۔

دور نبوت سے پہلے ایام جاہلیت میں اہل عرب حسدوبغض اورذاتی غرور میں اتنے مست تھے کہ انسان انسانوں کی غلامی کرتے، امیر کو غریب اور طاقتور کو کمزور پرہر لحاظ سے برتری حاصل تھی۔ بعثت نبوی کے بعدجو نظام ترتیب دیاگیا تاریخ عالم میںاس کی تمثیل نہیں ملتی۔’’ قرآن مجید نے معاشرے کی اصلاح کیلئے ایمان کی بنیاد پر معاشرتی تعلقات کو بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ ہر جگہ یہ تاکید کی گئی کہ اللہ پر ایمان لاؤ تاکہ بندوں کی خدمت ہو اور آخرت پر ایمان لاؤ تاکہ انسانوں کی خدمت ہو، یہی مقاصد ہیں تعلیم قرآنی کے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ دونوں کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ ساری مخلوق خدا کا کنبہ ہے ، خدا کو اپنی مخلوق میں وہ شخص سب سے زیادہ محبوب ہے جو خدا کی مخلوق کے ساتھ بھلائی سے پیش آئے‘‘

اسی نظریہ کو شاعر مشرق نے یوں بیان کیا ہے:

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے

میں اُس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

اللہ تبارک وتعالیٰ ایک مالدار کو اس نعمت کے بارے میں یوں ہدایات دیتا ہے کہ اپنے رب کی نعمتوں کا اظہار کرو۔ ایک صورت اظہار کی یہ ہے کہ اللہ کا شکربجالاؤ اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس مال سے محتاجوں کی مدد کی جائے۔ یہ صورت زیادہ بہتر ہے۔اسلامی تعلیمات نے دنیا میں ایسے اور اق رقم کئے کہ غیر مسلم بھی یہ حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے کہ اسلام ہی امن کا دین ہے، اس کی تعلیمات وحدت اور اُخوت کا بہترین نمونہ ہیں۔ جس کی ایک مثال صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تب پیش کی جب ہجرت کے بعد مہاجرین مدینہ میں سکونت پذیرہوئے تو انصار نے من وعن سب کچھ مہاجرین کیلئے پیش کردیا۔ ایسی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

انصار نے مہاجرین کیلئے گھروں اور دلوں کے دروازے کھول دئیے۔ انہوں نے تو گھروں کا سامان تک یکساں بانٹ دیا۔ چونکہ اسلامی سلطنت کی وسعت کے ساتھ ساتھ  غزوات اور جہاد کا سلسلہ بھی چلتا رہا تو اس دوران ہزاروں کی تعداد میں صحابہ شہید ہوئے، بچے یتیم ہوئے اور عورتوں کومصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا تو ایسے وقت میں بھی ہر ایک صحابی کا گھر یتیم خانہ بن گیا۔پہلی بار انسانی تاریخ نے دیکھا کہ آفاقی تعلیمات نے تمام انسانوں کو ایک درجے اور ایک ہی صف میں کھڑا کردیا۔ مسلمانوں کو کلمہ کے رشتہ سے جوڑ کرعرب وعجم میں یہ اعلان کردیاگیا کہ امت مسلمہ جسدواحد ہے اگر جسم کے کسی حصے میں زخم ہو تو پورے جسم میں درد ہوتا ہے۔ تو ان تعلیمات کی عملی صورت مکہ مکرمہ سے زیادہ مدینہ منورہ میں دیکھنے کو ملی جو پہلی اسلامی ریاست بن گئی۔ جہاں رہبر کائناتﷺ نے ایسے تصورات کو مضبوط کیا کہ معاشرے کو سنوارنے کیلئے ہر ایک طبقہ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ یہی مسلمانوں کا شیوہ ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

’’ اور جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے‘‘

بخاری شریف کی حدیث میں آیا ہے:

’’ بھوکوں کو کھانا کھلاؤ ، مریضوں کی عیادت کرو اور قیدیوں کو چھڑاو‘‘

یہی تعلیمات ہیں جو ایک معاشرے کا معاشی نظام سدھار سکتے ہیں۔ جس معاشرے میں انسانوں کی حق تلفی نہ ہو وہ اللہ کے قریب ہوتا ہے اور انہی تعلیمات پرکاربند رہنے کا نام اسلام ہے، بندوں کے حقوق کی ادائیگی سے جی چرانا یقیناًگناہوں میں شمار ہوتا ہے اور قرآن و سنت میں ان کیلئے وعیدیں آئی ہیں۔ سورۃ المدثر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’تمہیں کیا چیزیں جہنم میں لے گئیں وہ کہیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں نہ تھے اور مسکین کو کھانا کھلاتے نہ تھے‘‘

یہ بات عیاں ہے کہ انسانی فطرت ہی تقاضا کرتی ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ اخوت وبھائی چارے کے ساتھ پیش آئیں اور خدمت خلق ہی انسانی فطرت کا زیور ہے۔ خدمت خلق کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ اللہ ہی زمینوں اور آسمانوں کا مالک ہے اس لحاظ سے انسان کسی چیز پر حق ملکیت نہیں جتا سکتا۔ یہاں تک کہ اس کے ہاتھ ، پاؤں، جسم کے اعضاء سب اللہ کی ملکیت میں ہے اور اللہ نے اگر چہ انسان کیلئے ہر ایک ضرورت کا سامان مہیا کیا ہے لیکن جو کچھ بھی اس کے پاس ہے اور جو زائد ہے اس میں دوسروں کا حق ہے ان کا جو مستحق ہوں، ضرورت مند اور محتاج ہوں۔بدر کے ہر ایک یتیم بچے کیلئے کئی کئی ہاتھ ایک ساتھ بڑھ رہے تھے۔

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کسی یتیم بچے کو ساتھ لئے بغیر کبھی کھانا نہیں کھاتے۔عصر حاضر میں انہی معیاروں پہ اگر ہم اپنے آپ کو جانچیں گے تو ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ہم لوگ تو اسلام کی تعلیمات سے کافی دور ہی نہیں بلکہ انسانیت کی روح سے بھی ناواقف ہیں۔ ہمارے شب وروز اسی فکر میں گذر جاتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ مال خواہ حلال یا حرام طریقے سے کس طرح حاصل ہو؟غرض کسی بھی طرح دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ قائم رہے اور ہمیں امیروں میں لوگ شمار کریں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی :’’ ہرگز تم نیکی تک نہیں پہنچتے جب تک تم خرچ نہ کرووہ جو تمہیں پسند ہو۔ اگر ہم میں سے ہر ایک اسلامی تعلیمات پہ عمل پیرا ہوتا تو کوئی بھی یتیم دست شفقت کو نہیں ترستا۔ خدمت خلق تو انسانیت کا لبادہ ہے ہم تو کبھی اپنوں اور مستحقوں کی حق تلفی سے بھی گریز نہیں کرتے ایسا لگتا ہے کہ ہم جیسےمسلمانو ں کیلئے اسلام محض ایک رسم کہن بن گیا اور ہماری بندگی سے ذوق وشوق، محبت ومعرفت سب کچھ چھن گیا۔

رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی

فلسفہ رہ گیا تلقین غزانی نہ رہی

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor