Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

سلام ہو صدیق پر(۲)

 

سلام ہو صدیق پر(۲)

Madinah Madinah

وہ ”اِنفاق“ میں بھی سب سے اَوّل اور سب سے برتر ہیں۔انہوں نے اَوّل اَوّل اپنا مال اُن مسلمان غلاموں کو آزاد کرانے پر وَقف فرمارکھا جو ایمان لانے کی پاداش میں اپنے کافر آقاؤں کے مظالم کا شکار تھے۔سیدنا بلال،عامر بن فہیرہ،زنیرہ،نہدیہ،ام عبیس اور کتنے مزید…رضی اللہ عنہم ۔ پھر انہوں نے ”ہجرت“ پر مال خرچ کیا۔ کئی مسلمانوں کو ہجرت کرائی اور جو بچ رہا بڑی مقدار میں رسول اللہ ﷺ اور اپنی ہجرت کے لیے مختص کردیا تاکہ راستہ میں کام آئے۔ہجرت کے لیے دو بہترین جانور خریدے،راہبر کا انتظام کیا اور زادِ راہ کی تیاری پر مال لگایا۔اس کے بعد ان کا مال فقراء مہاجرین کی راحت رَسانی اور مدینہ منور ہ میں دیگر دینی خدمات پر خرچ ہوتا رہا۔یہاں تک کہ جہاد فی سبیل اللہ کی فرضیت نازل ہوگئی اور مسلمانوں کو اللہ تعالی کے دین کی سربلندی کے لیے جان ومال سے لڑائی کا حکم دے دیا گیا۔ابوبکررضی اللہ عنہ نے جان سے جہاد کا حکمِ الٰہی کیسا نبھایا اس کی کچھ جھلک گزشتہ قسط میں عرض ہوئی۔مال کے معاملہ میں بھی وہ سب سے آگے بڑھ گئے اور اتنا آگے کہ کوئی ان کی ہمسری کی تمنا بھی نہ کرسکا۔فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریمﷺ نے انفاق کا حکم فرمایا۔ خوش قسمتی سے اُن دنوں میرے پاس مال کی کچھ فراوانی تھی۔دل میں خیال آیا کہ شاید زندگی میں وہ پہلا موقع آن پہنچا کہ میں نیکی میں سبقت پانے میں صدیق سے آگے بڑھ جاؤں اور نبی کریم ﷺ کی خوشنودی اور دعائیں پالوں۔خوب غوروفکر کر کے اپنے مال کانصف آقاﷺ کے قدموں میں ڈھیر کرنے کا اِرادہ کرلیا۔پورےاِہتمام سے سارا مال جمع کرکے دو حصوں میں بانٹا۔ایک حصہ گھر چھوڑاا ور دوسرا لے کر آقاﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔مال پیش کیا۔آپﷺ نے فرمایا:

”اپنے اہل وعیال کے لیے کیا چھوڑ کر آئے؟“

عرض کیا:

یارسول اللہ!آدھا مال اُن کے لیے چھوڑا، آدھا یہاں لایا۔

اتنے میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ایک گٹھڑی آقاﷺ کے قدموں پر ڈھیر کی۔آقاﷺ نے یہی سوال اپنے صدیق سے بھی دُہرایا:

”گھر میں کیا چھوڑ کر آئے؟“

صدیق نے جواب میں جو فرمایا وہ سن کر میرا عزم واِرادہ سب جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔میں نے دل میں کہا:عمر ابن الخطاب!اس شخص سے آگے بڑھ جانا ناممکن ہے۔تو آئندہ کبھی تمنا بھی نہ کی۔

”آقا! میں تو بس اللہ اور اس کے رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں“

اور پھر اس اَوّلیت کا اِنعام ملتا ہے۔

آقاﷺ دنیا سے تشریف لے جانے والے ہیں،اعلان بھی ہوچکا اور آثار بھی واضح ہوچکے۔

آپﷺ دولوگوں کے سہارے سے تشریف لائے، کچھ الوداعی باتیں اِرشاد ہوںگی اور ’’صدیق‘‘ کے لئے ایک اَنوکھا اعتراف اور ایک عظیم اِعزاز کا اعلان ۔ ایک اعتراف تو پہلے ہی ارشاد ہوچکا اور سب سن چکے :

’’لوگوں میں سے اپنی رفاقت اور اپنے مال کے ذریعے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے شخص ’’ابو بکر‘( رضی اللہ عنہ) ہیں، اگر میں زمین پر کسی کو اپنا خلیل بناتا تو یقیناً انہیں ہی بناتا‘‘

احسانات میں ان کے اول ہونے کا اعزاز تو انہیں بخشا جا چکا لیکن آج جس اعزاز کا اعلان ہونے والا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔

” ہم پر جس شخص نے بھی کسی قسم کا کوئی احسان کیا ہم نے اس کا ہر احسان چکا دیا ہے۔سوائے ’’ابو بکر‘‘ کے ۔ ان کے کچھ احسانات ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن چکائیں گے‘‘

جس مسلمان نے نبی کریم ﷺکو اپنی جان و مال سے کوئی راحت پہنچائی وہ آخرت میں اس کا بہترین بدلہ اللہ تعالیٰ سے پائے گا۔ لیکن دنیا میں بھی ایسا ہوا کہ نبی کریمﷺ نے اس کا ایک ظاہری بدلہ اُسے دے دیا اور ہمیشہ اس کے کئے سے بڑھ کردے دیا ۔ مگر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد ہے کہ ہم ان کے احسانات کا ظاہری بدلہ بھی دنیا میں نہیں دے سکے اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن ان کا حساب چکائیں گے۔ صدّیق یہ سن کر زاروقطار رورہے ہیں:

”میں کیا، میرے احسانات کیا، میرا مال کیا، یہ سب میرا تھا ہی کب یارسول اللہﷺ! یہ سب کچھ تو آپﷺ کا ہی تھا۔‘‘

اور سننے والے حیرت و رشک سے ان بلندیوں کو تَک رہے ہیں جہاں آج ”صدّیق“ جا پہنچے۔

اللہ !اللہ!تاجدارِا سلام ﷺ پورے اِسلام کو، پوری امت مسلمہ کو ، قیامت تک آنے والے اس کے ایک ایک فرد کو یہ احساس دِلاگئے کہ تم سب ’’صدّیق‘‘ کے زیرِ بار ہو، صدّیق کے منت کیش ہو، صدیق کے مقروض ہو، آقاﷺجو اعتراف اپنی ذات کی بابت فرمارہے ہیں کیا کوئی شخص اس نسبت کو توڑ کر آقاﷺ کا غلام اور اُمتی قرار پاسکتا ہے؟

اس نے ہلاکت ،فلاکت، تباہی، اور لعنت کمائی جس نے صدّیق سے ناطہ توڑ کر آقاﷺ سے رشتہ توڑ لیا۔

٭٭٭

وہ’’نیابت‘‘میں سب سے اَوّل ہیں۔

جتنا عالَمِ اسلام اس وقت موجود ہے، اس میں سینکڑوں مساجد ہیں اور سینکڑوں امام ۔ لیکن آقاﷺ کا اپنا مصلیٰ آپﷺ کا خاص منصبِ امامت اور منصبِ ریاست بھی ہے، اس لئے آپﷺ کی یہاں موجودگی میں کوئی دوسرا اس مصلے کا امام نہیں بن سکا اور نہ ہی بن سکتا تھا۔ آقاﷺ نے اپنے امر سے اگر یہ اعزاز کسی کو بخشا تو وہ ”صدّیق“ ہیں۔

”ابوبکر کو حکم دو لوگوں کا نماز پڑھائیں“

عرض کیا جاتا ہے:

یارسول اللہ!وہ نرم دل ہیں۔آپ کے مصلیٰ پر کھڑے ہوںگے تو اپنی حالت سنبھال نہیں پائیں گے، ہم عمر کو آپ کا حکم پہنچا دیں کہ وہ نماز پڑھائیں؟

”ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“

حکم کی تعمیل میں پھر تاخیر ہوگئی تو اب تنبیہ سننا پڑی۔ عتاب ہوا اور پھر حکم صادر فرمایا:

”ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“

یہ منصبِ ریاست واِمامت کی نیابت تھی، صرف نماز کی نہیں۔محض نماز کی بات ہوتی تو آپﷺ کی عدم موجودگی میں یہاں بہت سے لوگ نماز پڑھا چکے تھے۔عبداللہ بن اُم مکتوم بھی ، عبدالرحمن بن عوف بھی، علی المرتضیٰ بھی اور دیگر کئی خوش بخت یہ سعادت پاچکے رضی اللہ عنہم۔ یہاں بات کچھ اور ہے اس لیے تاکید اور تنبیہ کے ساتھ حکم فرمایا گیا کہ یہ منصب اب وہی سنبھالیں۔اس سے پہلے انہیں اپنے سامنے امیرِ حج بناکر ان کی یہ صلاحیت دِکھائی جاچکی کہ وہ اُمت کے اِجتماع کو سنبھالنے کے اہل ہیں۔اپنی جماعت کو قدم قدم پر یہ باور کرانا کہ صدیق ان میں سب سے افضل، سب سے برتر اور سب سے اعلیٰ مقام والے ہیں آخر کس مقصد سے تھا؟

ایک واقعہ پڑھئے!

”ابوالدرداء رضی اللہ عنہ راوی ہیں:

نبی کریم ﷺ مسجد سے نکلے۔ہم چند لوگ بھی آپﷺ کے ساتھ چل پڑے۔جماعت میں ابوبکر بھی تھے۔میں نبی کریمﷺ کے قریب چلنے کے لیے تیز قدم اُٹھا رہا تھا، اس وجہ سے میرا ہر قدم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قدم سے آگے پڑرہا تھا۔آپ ﷺ چلتے چلتے رُک گئے۔ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

”تم ایسے شخص سے کس طرح آگے بڑھ رہے ہو انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد جس سے بڑھ کر افضل انسان زمین وآسمان نے نہیں دیکھا۔“

آقا ﷺ نے صدّیق سے آگے بڑھتا ہوا قدم پسند نہیں فرمایا اگرچہ وہ کسی عام شخص کا نہیں زاہد الامۃ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر عظیم المرتبت انسان کا ہی کیوں نہ ہو۔تو صدّیق سے منصب میں کسی کا اوپر ہونا کس طرح پسند فرماتے؟

آپ ﷺ نے ایک ارادہ فرمایا۔پھر اس لیے ترک فرمادیا کہ اس کے خلاف پر نہ تو اللہ تعالیٰ راضی ہوںگے اور نہ ہی آپ ﷺکی جماعت۔کیونکہ آپ ﷺنے ان کی تربیت ہی خود اس نہج پر فرمائی تھی۔

”اور میں نے ارادہ کیا کہ ابوبکر کو اور ان کے بیٹے کو بلواؤں اور یہ امر (خلافت) ان کے حق میں لکھوا کر اس پر گواہی قائم کردوں پھر میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں کی جماعت اس کے خلاف پر راضی ہی نہ ہوںگے اس لیے میں نے یہ ارادہ ترک کردیا“

٭٭٭

ذکر اُس’’پری وش‘‘ کا ہے کہ ختم کرنے کو نہ دِل آمادہ ہے نہ قلم لیکن بہرحال اِختتام ضروری ہے سو اُس بات پر کرتے ہیں جو مقامِ صدّیق کا حسّاس ترین پہلو اُجاگر کرتی ہے۔

آقاﷺ اپنے دوست اپنے صدّیق سے متعلق کس قدر حسّاس ہیں۔

یہ بات ہر مسلمان کو اپنے دل و دماغ میں بٹھانا ضروری ہے، اس کے بغیر مقامِ صدّیق کا اِدراک نہیں ہو سکتا اور نہ ہی صدّیق سے متعلق اُسوئہ رسول اللہﷺ کا علم حاصل ہوسکتا ہے۔ واقعہ پڑھئے ، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

’’ہم نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر تھے، دور سے ابو بکر رضی اللہ عنہ تیزی سے آتے دِکھائی دیئے، نبی کریمﷺ نے فرمایا:تمہارا ساتھی کسی سے جھگڑکر آرہا ہے، ابوبکررضی اللہ عنہ آئے اور بیٹھ گئے، آپﷺ نے پوچھاکیا بات ہے؟عرض کیا:میرے اور عمر کے درمیان کسی بات پر بحث ہوگئی ، میں نے انہیں کچھ زیادہ ہی کہہ دیا جس پر وہ روٹھ کر اپنے گھر چلے گئے، مجھے غلطی کا احساس ہوا تو میں معذرت کرنے ان کے گھر گیا مگر انہوں نے دروازہ نہ کھولا، میں اسی پریشانی میں ادھر نکل آیا۔ آپﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف فرمادیا۔

اتنے میں ہم نے دیکھا کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ گھبراہٹ اور ندامت کی حالت میں چلے آرہے ہیں (انہیں احساس ہوا کہ صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے تھے ۔ان کے لئے دروازہ نہ کھول کر اچھا نہیں کیا) ہم نے دیکھا کہ نبی کریمﷺ کا چہرہ مبارک( غصے سے) متغیر ہونا شروع ہوگیا۔ صدّیق بھانپ گئے اور انہوں نے جلدی جلدی کہنا شروع کیا: غلطی میری تھی یارسول اللہ! غلطی میر ی تھی۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئے( جس طرح معذرت کرنے والا بیٹھتا ہے) رسول اللہﷺ فرمارہے تھے:

’’ تم میرے دوست کو میر ے لئے چھوڑ کیوں نہیں دیتے

تم میرے دوست کو میرے لئے چھوڑ کیوں نہیں دیتے“

صدّیق اِعتراف فرمارہے ہیں کہ غلطی اُن کی تھی، بار بار دُہرارہے ہیں لیکن عتاب حضرت عمررضی اللہ عنہ پر ہو رہا ہے۔

کیوں؟

آقاﷺ کے صدّیق ، دوست، رفیق،صاحب ان کے دروازے پر گئے، انہوں نے دروازہ نہیں کھولا۔ دوست اپنے دوست کی خاطر جلال میں ہیں کہ ان کو دروازے سے کس طرح لوٹا دیا گیا۔ غلطی کس کی تھی ،قصوروار کون تھا یہ قضیہ دور رہ گیا، اب اس پر بات نہیں، بات دوستی کی غیرت اور دوست کی عزت کی ہے، پھر مقابل اگر عمر رضی اللہ عنہ جیسے اہل فضائل ومناقب عبقری انسان بھی ہیں اُن پر عتاب ہو رہا ہے۔ عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر میری آواز بھی کبھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بلند نہ ہوسکی۔

سمجھو!

ؒخوب سمجھو! اچھی طرح دل و دماغ میں بٹھا لو!

جس نے صدّیق کے لئے دِل کا دروازہ نہیں کھولا اس نے روزِ قیامت آقاﷺ کے سامنے حاضر تو ہونا ہےاور جس کے دِل کا دروازہ دشمنانِ صدّیق کے لئے کھلارہا اس نے بھی۔

٭٭٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor