طاقت کی زباں میں بات (نظم ۔ پروفیسر انور جمیل)

طاقت کی زباں میں بات

دشمن سے کبھی تم بھول کے بھی نہ طرزِ فغاں میں بات کرو

جس وقت تقاضا جیسا ہو ، اس رنگِ بیاں میں بات کرو

جو پتھر بن کے پیش آئے ، تم پتھر بن کے پیش آؤ

طاقت کے پجاری سے تم بھی ، طاقت کی زباں میں بات کرو

……

لو ذرہ ایمان کی اور ذکر کا ہتھیار لو

باندھ لو سر پہ کفن اور ہاتھ میں تلوار لو

پیش ہونا ہے خدا کی بارگاہ میں ایک دن

زندگی سنوری نہیں ، تو موت ہی سنوار لو

………

حسنِ چمن ہے جاں فزا ، حسنِ بتاں بُرا

اہل نظر کے واسطے جی کاریاں بُرا

صدیوں کے تجربات سے حاصل ہوا ہے یہ

ہندو رعایا خوب ہے ، حکمراں بُرا

………

(پروفیسر انور جمیل)